Why Fast-Moving Floodwater Is More Dangerous Than Deep Water?

نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کم گہرا مگر تیز رفتار سیلابی پانی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور شدید موسم میں سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور ضروری سہولیات تک رسائی متاثر کرتا ہے۔

تیز بہتا ہوا سیلابی پانی کیوں زیادہ خطرناک ہوتا ہے؟

 نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف کینٹربری کی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سیلابی پانی گہرا نہ بھی ہو، تب بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق ڈاکٹر لیا ڈسالاس کی قیادت میں کی گئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر پانی تیز رفتاری سے بہہ رہا ہو تو تھوڑی سی گہرائی بھی انسان کو گرا سکتی ہے یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتی ہے۔

عام طور پر عوام اور شہری منصوبہ ساز جو سیلابی نقشے استعمال کرتے ہیں، وہ زیادہ تر پانی کی گہرائی پر توجہ دیتے ہیں، مگر پانی کی رفتار کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈسالاس کے مطابق سیلابی پانی کھڑا نہیں رہتا، وہ بہتا ہے، اور جب اس کی رفتار زیادہ ہو تو کم مقدار میں بھی شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بارشیں زیادہ شدید ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں محققین کا کہنا ہے کہ شہروں کو سیلاب سے نمٹنے کے طریقوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ صرف ساکن نقشوں کے بجائے ایسے جدید ماڈلز کی ضرورت ہے جو یہ دکھائیں کہ پانی حقیقی وقت میں سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں کس طرح حرکت کرتا ہے۔

یہ تحقیق “مائنارٹی رپورٹ” نامی منصوبے کے تحت کی گئی، جس کا مقصد کمزور شہری آبادیوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو شدید موسمی واقعات کے خلاف مضبوط بنانا ہے۔ اس تحقیق کو جرنل آف فلڈ رسک مینجمنٹ میں شائع کیا گیا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے ویلنگٹن کے مرکزی علاقے کو مثال کے طور پر منتخب کیا اور مستقبل کے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شدید بارش کا منظرنامہ تیار کیا۔ جب سیلابی پانی کی رفتار کو ماڈل میں شامل کیا گیا تو کئی سڑکیں اور چوراہے، جو پہلے محفوظ سمجھے جاتے تھے، خطرناک ثابت ہوئے۔ خاص طور پر وہ علاقے زیادہ متاثر ہوئے جہاں سڑکیں نالیوں کی طرح تیز بہتے پانی کو آگے لے جاتی ہیں۔

ڈاکٹر ڈسالاس کے مطابق، “یہ وہ جگہیں ہیں جہاں لوگ اب بھی پیدل چلنے یا گاڑی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن رفتار کو شامل کرنے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ یہ راستے نظر آنے سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔”

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب پانی کی رفتار کو شامل کیا گیا تو پیدل چلنے والوں کے لیے انتہائی خطرناک علاقوں کی تعداد میں 80 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ درمیانے درجے کے خطرے والے علاقے، جن میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، تین گنا سے زیادہ بڑھ گئے۔

محققین نے یہ بھی جانچا کہ شدید سیلاب کے دوران لوگ ضروری سہولیات تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے سیلابی خطرات کے نقشوں کو ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ساتھ جوڑا گیا، تاکہ ہسپتالوں، پبلک ٹرانسپورٹ مراکز اور اہم راستوں تک رسائی کا جائزہ لیا جا سکے۔

جب صرف پانی کی گہرائی کو دیکھا گیا تو زیادہ تر آبادی کو ان سہولیات تک رسائی حاصل نظر آئی۔ لیکن جب پانی کی رفتار شامل کی گئی تو شہر کے کئی مرکزی علاقے، خاص طور پر پیدل افراد کے لیے، مکمل طور پر کٹ گئے۔

کچھ صورتوں میں سیلاب کے عروج پر اہم خدمات تک پہنچنے کے تقریباً تمام پیدل راستے غیر محفوظ قرار پائے۔ گاڑیوں کی رسائی بھی شدید متاثر ہوئی، خاص طور پر وہاں جہاں ڈھلوان زمین اور تنگ سڑکوں نے رکاوٹیں پیدا کیں۔

یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ شدید موسمی حالات میں شہری نقل و حرکت کس قدر تیزی سے متاثر ہو سکتی ہے، چاہے پانی زیادہ گہرا نہ بھی ہو۔

محفوظ فیصلوں کے لیے ایک نیا فریم ورک

خطرات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ، محققین نے ایک ایسا فریم ورک بھی تیار کیا ہے جو حقیقی حالات میں بہتر فیصلوں میں مدد دے سکتا ہے۔ سیلابی ماڈلنگ اور ٹرانسپورٹ تجزیے کو یکجا کر کے یہ نظام بتا سکتا ہے کہ کن سڑکوں سے بچنا چاہیے اور کون سے متبادل راستے زیادہ محفوظ ہیں۔

ڈاکٹر ڈسالاس کے مطابق اس کا مقصد شہروں کو زیادہ محفوظ اور مضبوط بنانا ہے۔ اس طریقے سے بہتر سڑک بندشیں، واضح عوامی انتباہات، اور ہسپتالوں و ایمرجنسی سروسز تک بہتر رسائی ممکن ہو سکتی ہے — وہ بھی اس بنیاد پر کہ پانی حقیقت میں کیسے بہتا ہے، نہ کہ صرف اس کی گہرائی پر۔

محققین خبردار کرتے ہیں کہ جیسے جیسے طوفان شدید ہوتے جا رہے ہیں، پرانے اور ناکافی سیلابی اندازوں پر انحصار چوٹ یا جانی نقصان کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ان شہروں میں جہاں زمین ڈھلوان اور سڑکوں کا نظام پیچیدہ ہے۔

ڈاکٹر ڈسالاس کا کہنا ہے، “سیلابی پانی کی رفتار کو سمجھنا لوگوں کی حفاظت کے لیے بے حد ضروری ہے، کیونکہ یہ اس عام غلط فہمی کو چیلنج کرتا ہے کہ کم گہرا پانی محفوظ ہوتا ہے۔”